یک کھرب پتی آدمی نے دیکھا کہ ایک بوڑھا آدمی سڑک کے کنارے سخت سردی میں بغیر کوٹ کے بیٹھا ہے اس نے پوچھا کہ بابا جی آپ کو سردی نہیں لگتی؟ بوڑھے نے جواب دیا کہ وہ اس سردی کا عادی ہو چکا ہے کھرب پتی نے کہا کہ میں ابھی اپنے گھر سے آپ کیلئے گرم کپڑے لے کر آتا ہوں لیکن اتفاق سے وہ گھر جا کر کاموں کی وجہ سے بھول گیا صبح اسے بزرگ کی یاد آئی تو فورا کپڑے لے کر اس جگہ پہنچا تو بوڑھا مر چکا تھا لیکن اس نے ایک کاغذ پر نوٹ چھوڑ دیا جس پر لکھا تھا کہ جب تک اسے **ی نے امید نہیں دلائی تھی تو اس میں سردی سے لڑنے کی طاقت تھی لیکن جب **ی کے وعدے سے امید لگ جائے تو وہ انتظار اس کی حالات سے لڑنے کی طاقت ختم کر دیتا ہے اس کہانی میں سبق یہ ہے کہ اگر آپ **ی کی مدد نہیں کر سکتے تو **ی سے کم از کم وعدہ نہ کریں.